تعارف جامعہ
اجمالی تعار ف
آزاد ہند کے صوبہ اتر پردیش میں شہر ہاپوڑ ۔ دہلی سے مشرق کی سمت گنگ و جمن کے دوآبہ میں ۵ ۵کلومیٹر کی دوری پر آباد ہے جو آج تقریباً چار لاکھ نفوس پرمشتمل ہے ۔ یہاں کے پاپڑ مشہور ہیں، گڑ ،غلہ ، اور چمڑے کی بڑی منڈی ہے، بابائے اردو مولوی عبدالحق مرحوم کا مولد ومسکن سے شمس الدین التمش بادشاہ کی یادگار قاضی مسجد (اب کالی مسجد) گڑھ گیٹ کے قریب ہے جب کہ اورنگ زیبؒ کی تعمیری یادگار جامع مسجد سکندرگیٹ پر واقع ہے ۔ غرض ہاپوڑ ایک ہزار سال سے زائد کی اپنی تاریخ رکھتا ہے یہیں بلند شہر کو جانے والے جی ٹی روڈ پر جامعہ عربیہ خادم الاسلام ہاپوڑ کی نئی پر شکوہ عمارت ہے جس میں جامعہ کا صد ردفتر (دفتر اہتمام)ہے ۔ یہیں درس نظامی عربی کے اکثر شعبہ جات ، دارالقرآن ،دارالافتاء ، محاسبی مطبخ محکمہ شرعیہ، کتب خانہ اور دیگر اہم شعبہ جات ہیں ۔ مہمانان رسول کی قیام گاہ اور مہمان خانہ اسی عمارت میںہے عصری تعلیم کے لئے جامعہ کا پرائمری اور جو نیر ہائی اسکول ، کچھ درجات حفظ اور شعبہ دینیات مذکورہ بالا جامع مسجد میں ہیں ۔ جب کہ حروف شناسی و ناظر ہ کلام پاک کے لئے شہری طلبہ کے واسطے خصوصی درجات، قدیم ترین مدرسہ ومسجد سادات میں ہیں جس کی بنیاد مغل بادشاہ شاہ جہاں نے شیخ طریقت حضرت مولانا سید قطبؒ کے ہاتھوں رکھی تھی ۔
الحمد لله یہی مدرسہ سادات (اب جامعہ عر بیہ خادم الاسلام ہاپوڑ ۳۰۵۵ طلبہ کو اپنے دامن میں لیے ہوئے علوم نبوت و دیگر علوم عصر ی سے آراستہ کر رہا ہے جامعہ کی جانب سے ۱۳۱۸ طلبہ کی کفالت اہل خیر کے تعاون سے کی جارہی ہے ۔ اس سال کیلئے مجلس شوری نے سالانہ بجٹ چار کروڑ پندرہ لاکھ روپے منظور کیا ہے جو محض اللہ کی رحمت وعنایت سے اہل خیر حضرات کے تعاون سے پورا ہوگا انشاء اللہ۔ اللہ تعالی جامعہ اوراس سے معاونین کو انکی نیتوں کے مطابق دارین کی سعادتوں اور اجر عظیم سے مالا مال فرمائے اور تمام شروروفتن سے محفوظ فرمائے ۔ آمین ۔
مدرسہ سادات سے جامعہ عر بیہ خادم الاسلام تک
کسی زمانہ میں ہاپوڑ ، ہری پور نام کی ریاست تھی مغل بادشاہ شاہ جہاںؒ نے ترویج واشاعت دین کی خاطر دیگر مقامات کی طرح ہاپوڑ میں بھی شیخ طریقت مولاناسید قطبؒ اور ان کے برادران سید فرید ،سید مرید اور سید عالم کو بھیجا اور ایک قلعہ نمامدرسہ اور اس سے ملحق مسجد کو تعمیر کروایا جو آج تک مدرسہ سادات کے نام سے مشہور ہے، آج کل اس میں تبلیغی مرکز ہے ، ان بزرگوں کے خلوص اور مسلسل کوششوں سے مدرسہ کو بہت جلد اس قدر شہرت حاصل ہوئی کہ بغداد ( عراق ) دمشق (شام)، بخارا تاشقند ،ایران ترکی اور مصر وغیرہ کے تشنگان علوم ہاپوڑ کے اس مدرسہ سے سیرابی حاصل کرنے لگے ۔آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر شکار سے واپسی پر اس مدرسہ میں قیام کرتے تھے مغل شاہی در بار سے ہر دور میں جا گیر یں اور عطایا مدرسہ کو دیئے جاتے رہے جنکا شمار۴۰۰ گاؤوں سے زائد ہو گیا تا آنکہ ۱۸۵۷ء میں یہ مدرسہ بھی جد و جہد آزادی کی وجہ سے انگریزوں کی سامراجی حکومت کے مظالم کا شکار ہوا، مدرسہ کی تمام جائیدادوں کو بحق سرکار ضبط کر لیا گیا اور کچھ طلبہ اور علماء مقابلہ میں شہید ہوئے اور کچھ نے ادھر ادھر منتشر ہو کر جان بچائی ۔
مدرسہ کی شکل بدل دی گئی ، مسجد کے صحن میں انگریزوں نے گھوڑے باندھے بعد ازاں معمولی داموں پر مسجد اور مدرسہ غیر مسلموں کو دیدیا گیا مگر پھر مسجد اور اس سے ملحق مدرسہ کی جائیداد کو مولانا حکیم سید عالم ( جو اس وقت مسجد و مدرسہ کے متولی تھے ) نے اپنی ذاتی رقم سے خرید لیا اورتعلیم وتبلیغ کے قدیم سلسلہ کو اپنے ہی خاندان کے علماء مولانا سید محمد خالدؒ اور مولانا سید عبدالواحد صاحبؒ وغیرہ کے ذریعہ جاری رکھا مگر پھر حکومت وقت کی مسلسل نظر اور گرفت سے بچنے کے لئے شہر کی جامع مسجد میں برکات الاسلام کے نام سے مدرسہ کومنتقل کر دیا اور مدرسہ سادات سے تعلیم کا سلسلہ وقتی طور پر ختم کر دیا ۔ مولا نا عبدالحی صاحب لاہوریؒ کی خدمات حاصل کی گئیں جو اس وقت کے ایک زبردست عالم تھے پھر مولانامحمدعلی خوش آبادی ، مولا نا کریم بخش صاحب سنبھلیؒ اور مولانا سیدمحمود صاحب ہزارویؒ بھی مدرسہ برکات الاسلام میں بہ حیثیت مدرس تشریف لے آئے اس دور میں حکیم صاحب موصوف کے صاحبزادہ حضرت مولانا سید فخرالدینؒ سابق شیخ الحدیث و صدر المدرسین دارالعوم دیو بند نے شرح جامی تک یہاں تعلیم حاصل کی ، کچھ ہی عرصہ بعد یہاں دورۂ حدیث تک تعلیم کا بھی بندوبست ہو گیا۔ تین چارسو سے زائد طلبہ اس وقت زیرتعلیم تھے جن میں ڈیڑھ سو کے قریب مدرسہ کی پوری طرح کفالت میں تھے بقول حضرت شیخ الحدیث مولانا سید فخر الدین صاحبؒ ہا پورعلم وروحانیت کا مرکز رہا ہے ، یہاں اکا برملت اور بزرگان دین پیدا ہوئے اور خلق خدا کو فیضیاب کرتے رہے ہیں ۔ ایک مرتبہ یہاں حضرت مولا ناخلیل احمد سہارنپوریؒ ( صاحب بذل المجہو دشرح ابوداؤد نے قدم رنجہ فرما کر طلبہ دورہ حدیث کی دستار بندی بھی فرمائی ہے ، حکیم سید عالم صاحبؒ کے وصال کے بعد مدرسہ کی ترقی پر گہن لگ گیا مگر ۱۹۰۱ء میں شہر کے ایک صاحب نسبت بزرگ حافظ محمد غفران صاحبؒ نے اس مدرسہ کی سر پرستی فرما کر اس کی نشاۃ ثانی فرمائی ، قضاء الہی سے حضرت حافظ صاحب کی اخیر عمر میں کچھ وجوہات سے اس مدرسہ کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ، جامع مسجد میں حافظ ننھے خانؒ نے برکات الاسلام اور موتی مسجد میں حضرت حافظ صاحبؒ نے خادم الاسلام کے نام سے اس سلسلہ کو جاری رکھا ۱۹۴۴ء میں حافظ غفران صاحب کی رحلت کے بعد انکے صاحب زادہ حافظ محمد نعمان صاحب عرف رحمت میاں حسب مقدور مدرسہ کو چلاتے رہے،۱۹۵۱ء میں جب حضرت مولانا ناظر حسین صاحب ہاپوڑیؒ دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوکر آئے تو شہر کے معزز اور مقتدر لوگوں نے جن میں حافظ خدا بخشؒ (حافظ محد غفران صاحبؒ کے شاگرد) اورانکے خاندانی افراد خلیفہ سید منظورحسن صاحبؒ و حاجی یا دالٰہی صاحب شمسی و غیر بھی تھے مولانا موصوف کو اس مدرسہ کی خدمت کے لئے آمادہ کرلیا، برکات الاسلام اور خادم الاسلام کو پھر ایک کر دیا گیا اور آئندہ کے لئے مدرسہ کا نام خادم الاسلام تجویز کیا گیا مکتب علی خاں کو بھی جو پرانا بازارمیں مسجد علی خان سے ملحق تھا اس مدرسہ کی تحویل میں دیدیا گیا جو آج ماشاءاللہ علی خاں جونیئر ہائی اسکول ہے موتی مسجد سے مدرسہ خادم الاسلام کا ذخیرہ کتب بھی جامع مسجد ہی میں منتقل کر لیا گیا اور رحمت میاں کو نائب مہتم کی حیثیت سے مقرر کیا گیا۔
الحمد اللہ حضرت مولانا ناظر حسین صاحبؒ(متوفی ۱۶/ذی قعدہ ۱۴۳۹ھ مطابق ۱۶ /نومبر ۲۰۰۸ء بروز یک شنبہ ) اوران کے دست راست حضرت مولانا قاری مشتاق احمد صاحبؒ ( متوفی ۸ شوال ۱۴۲۱ھ مطابق ۴ جنوری ۲۰۰۱ء بروز جمعرات کی مساعی جمیلہ اور خلوص سے یہ مدرسہ جامعہ تک ترقی کر گیا۔ ۱۹۷۴ء سے دورہ حدیث کی تعلیم دوبارہ شروع کر دی گئی ۱۹۹۲ء سے با قاعدہ تمرین فتاوی کا تدریسی شعبہ بھی جاری ہو گیا ،الغرض جامعہ ہذا نے ہندوستان کےبڑے مدارس میں ایک منفر داور نمایاں مقام بنالیا ہے ۔ اللہم زدفزد
مدرسہ سادات ( مرکز تبلیغ سے جوتعلیمی سلسلہ موقوف تھا، ہندستان کےمایہ ناز قاری مرحوم عبدالمالک ؒکے صاحبزادہ قاری عبدالماجد ذ اکرؒ کے دست مبارک سے جور یاض میں انجمن مدارس تحفیظ القرآن کے سکریڑی تھے دوبارہ جاری کر دیا گیا ہے۔حضرت مولانا ناظر حسین صاحب کے انتقال کے بعد حضرت مولا ناریاض احمد صاحب قاسمی میرٹھی کے زیراہتمام جامع اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا۔
اول اب حضرت مولانا مفتی عبد القدیم صاحب سکندرآبادی کے زیر اہتمام بحسن و خوبی ترقی کے منازل طے کر رہا ہے۔ اللہ رب العزت سے دعاء ہے کہ حضرت والا مہتمم صاحب کے دور اہتمام میں خوب ترقیات عطا فرمائے۔آمین۔
جامعہ کا مسلک اور اغراض و مقاصد
جامعہ کا مسلک قرآن و سنت کی اتباع نیز عقید و توحید و دیگر عقائد سلف کی پیروی اور ترویج واشاعت کرنا اردواور عربی زبانوں کوفروغ دینا، نیز ادیان باطلہ اور فرق ضالہ کا مقابلہ کر کے قرآن وسنت اور دین حنیف کا دفاع کرنا اور اس کے لئے علماء تیار کرنا اور حسب ضرورت مدارس ومر کا تب قائم کرنا ، حالات و ضروریات کا لحاظ کرتے ہوئے عصری علوم اور پیشہ وارانہ تعلیم کا واجبی بندوبست کر نا وغیرہ ۔