شعبہ جات
جامعہ کےشعبہ جات
شعبہ اہتمام :
جامعہ کی تعلیمی، تعمیری، انتظامی جملہ امور کی دیکھ بھال ، امور داخلہ و خارجہ کی نگرانی ، اساتذہ وملازمین کا عزل و نصب مجلس شوری کے طے کردہ آئین کے مطابق کر نا اس شعبہ کے ذمہ دار کے فرائض میں ہے۔
شعبہ تعلیمات :
جامعہ کا اہم ترین شعبہ ہے، جامعہ کے جملہ تعلیمی درجات کی نگرانی اورنظم ونسق ، امتحان داخلہ و دیگر امتحانات نیز اسباق کی تقسیم وترتیب،تیاری سندات تقسیم وظائف طلبہ اور تعطیلات وغیرہ کی ذمہ داری کومجلس تعلیمی کے مشوروں اور فیصلوں کے مطابق ناظم مجلس تعلیمی ( ناظم شعبہ) انجام دیتے ہیں ۔
شعبہ تحفیظ القرآن :
اس درجہ میں کلام اللہ شریف کومع قواعد تجوید کے حفظ کرایا جاتا ہے اور طلبہ کوضروری دینی تعلیم کے ساتھ اردو کی ابتدائی تعلیم بھی دی جاتی ہے اب تک الحمد للہ ہزاروں طلبہ حافظ قرآن ہوکر جاچکے ہیں ۔
شعبۂ ناظرہ قرآن پاک :
اس درجہ میں چھوٹے بچوں کو نورانی قاعدہ وغیرہ کی مدد سے حروف کی شناخت اور پھر کلام پاک ناظرہ کی تعلیم اور کلمہ نماز وغیرہ کی عملی مشق کرائی جاتی ہے۔
شعبہ تجوید وقرأت :
جامعہ میں تجوید وقرأت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے اور قرآت و تجویدحفص اردو و حفص عربی اور قرآت سبعہ وغیرہ کی تکمیل کرائی جاتی ہے ۔ تجوید کے مستقل طلبہ کواردو، ہندی اور حساب و تاریخ کے اسباق بھی پڑھائے جاتے ہیں اور امامت اور سجدہ سہو کے مسائل سے واقف کرادیا جا تا ہے ۔ درسِ نظامی عربی کے طلبہ کے لئے بھی ابتدائی چارسالوں میں تجوید وقرأت لازم ہے جس سے فراغت پر با قاعدہ حفص عربی کی سند بھی دی جاتی ہے۔
شعبۂ عربی و فارسی :
جامعہ میں فارسی وعربی ( ابتدائی فارسی سے لیکر دورۂ حدیث تک مکمل درس نظامی) کی تعلیم کا بندوبست ہے ابتدائی چار سالوں میں اردو، ہندی ،انگریزی ،حساب جغرافیہ اور تاریخ اسلام کی ضروری تعلیم بھی دی جاتی ہے بایں ہمہ جامعہ کا تعلیمی نصاب صرف آٹھ سال میں مکمل ہو جا تا ہے ۔
شعبہ پرائمری (عصری تعلیم ) :
ان درجات میں شہر کے ان بچوں کے لئے جوصرف د نیوی عصری تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں سرکار سے منظور شدہ نصاب کے مطابق درجہ اول سے درجہ پنجم تک معقول تعلیم کا بندوبست ہے، ار دود بینیات اور قرآن کریم ناظرہ کی تعلیم ان درجات میں ضروری ہے ۔
جو نیر ہائی اسکول (عصری تعلیم) :
ان درجات میں پرائمری کے کامیاب طلبہ کو درجہ ۶/ سے درجہ ۸/ تک سرکار سے منظور شدہ نصاب کے مطابق لازمی اردواورددینیات کے ساتھ تعلیم کا معقول بندوبست ہے ۔
شعبہ فتویٰ نویسی :
ملک و بیرون ملک سے آئے ہوئے سوالات کے زبانی اور تحریری جواب دینے کا سلسلہ ۱۳۸۴ھ سے جاری ہے ، تا کہ قوم وملت قرآن وسنت کے مطابق اپنی زندگی گذار سکے۔ باضابطہ مفتیان کرام کی خدمات اس شعبہ کو حاصل ہیں ۔
شعبہ تمرین افتاء :
قوم وملت کو قابل اعتماد مفتی مہیا کرنے کے لئے ۱۹۹۲ء مطابق ۱۴۱۲ھ سے باقاعدہ یہ شعبہ قائم کیا گیا جس میں دارالعلوم دیو بند و دیگر ممتاز اداروں و نیز جامعہ کے فارغ طلبہ کو با قاعدہ امتحان ( ٹیسٹ) کے ذریعہ د اخل کر کے ،فتوی نویسی کی مشق کرائی جاتی ہے اور دارالعلوم دیو بند کے نصاب کے مطابق نصاب مکمل کرایا جا تا ہے ۔
شعبہ دعوت و ارشاد :
پڑھنے کے ساتھ ساتھ دین کی دعوت عام کر نے کے لئے اس شعبہ کے تحت طلبہ کوعملی مشق کرائی جاتی ہے ،شہر اور بیرون شہر، قرب و جوار کے مواضعات میں جمعرات کے دن ۲۴ گھنٹے کے لئے جماعتیں روانہ کی جاتی ہیں اسا تذہ ان کی نگرانی کرتے ہیں ۔اسی طرح عوام کی طلب پر اساتذہ کرام بھی سال کے مختلف حصوں میں سفر کرتے ہیں اس کا انتظام کرنا ک تعلیم میں حرج نہ ہو نیزا کا برکی آمد پر میٹنگوں یا اجتماعات کا انتظام کر نا بھی اس شعبہ کے فرائض میں ہے۔
شعبہ تحریر وتقریر :
اس شعبہ میں ذمہ داران جامعہ نے طلبہ کے لیے اردو، عربی ، بنگلہ منی پوری اور آسامی زبانوں میں مشق کر نے کا نظم کیا ہے انجمن تہذیب الاخلاق اردو برائے طلبہ عام درس نظامی ، انجمن تہذیب الکلام برائے طلبہ ء بہار و جھارکھنڈ ، انجمن اصلاح اللسان برائے طلبہ مغربی بنگال،انجمن اصلاح البیان برائے طلبہ منی پور ،انجمن بزم ابرار برائے طلبہ آسام ، انجمن ندائے اسلام طلبہ دارالقرآن ، انجمن النادی الأدبی العربی برائے طلبہ عربی ہر انجمن کی اپنی الگ لائبریری ہے جن سے طلبہ کرام استفادہ کر کے تقر یری وتحریری مشق کرتے ہیں ۔ چنانچہ انجمن تہذیب الاخلاق تین دیواری پر چے الریاض "المشتاق" ،اورفیض رحیمی (اردو ) اورانجمن اصلاح اللسان "البلاغ" ( اردو بنگلہ ) انجمن اصلاح البیان "الفخر " (اردو) انجمن تہذیب الکلام "المحب"اور الناظر۲ دیواری پرچے بزم ابرار البدر" (اردو) کل ۸ پرچے نکالتی ہیں۔
شعبہ تصنیف و تالیف :
اس شعبہ سے اب تک نحوقاسمی ( عربی نجو میں ) توضیح المنطق( منطق میں ) میزان الصرف جد یدار دواور میزان الصرف جدید فارسی ( عربی صرف میں ) اور حضرت معاویہؓ پرمودودی کے الزامات ( ردمودودیت میں ) نخبتہ الاحادیث ( حدیث میں قرآن کریم ایک عظیم دولت، دلیل نحو قائمی ، اسہل التجوید ، معلمین قرآن کریم کے لئے رہنما اصول مصطفائی نماز نورانی قاعدہ اصلاح التحریر شاہجہانی ڈائری نقوش ناظر وغیرہ شائع ہو چکی ہیں ۔
شعبہ نشر واشاعت :
جامعہ کی جانب سے شائع ہونیوالے پمفلیٹ ،اشتہارات تعارفی اور اصلاحی لٹریچر ، اخباری اعلانات طبع رسیدات وغیرہ کا نظم اس شعبہ کے ذریعہ انجام پاتا ہے ۔
شعبہ تنظیم وترقی :
تمام ہی تعلیمی و تعمیری منصوبوں کی تکمیل مالیات کے بغیر ناممکن ہے۔ اس لئے فراہمی مالیات اور غلہ ودیگر اجناس کے لئے نظم قائم کرنا ۔ اس کے لئے رمضان اور دیگر فارغ اوقات میں اساتذہ جامعہ کواسفار میں روانہ کر نا سفراء کے عارضی یامستقل تقررر کی سفارش کرنا اس شعبہ کے فرائض میں ہے باقاعدہ ایک ذمہ دار اس کے لئے مقرر ہے ۔
شعبہ مطبخ :
بیرونی طلبہ اور وقتا فوقتا آنیوالے وفو داور مہمانوں کے لئے کھانے اور ناشتہ وغیرہ کانظم کرنا اس شعبہ کی ذمہ داری ہے۔ اس سال ۱۳۱۸ طلبہ کومطبخ سے دو وقت کا کھانا و ناشتہ دیا گیا۔ اس وقت ۷طباخ ۲ نظماء کے ماتحت خدمت انجام دے رہے ہیں ۔
کتب خانہ :
کسی بھی ادارے کیلئے کتب خانہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ، قوموں کی ترقی کے لئے کتب خانہ کی اپنی اہمیت ہے۔ جامعہ کا بھی ایک قیمتی کتب خانہ ہے جو مختلف زبانوں میں چھوٹی بڑی ہزاروں کتابوں پر مشتمل ہے طلبہ اور اساتذہ نیز دیگر طالبین کو برائے
استفادہ عاریت کے طور پر کتابیں مہیا کی جاتی ہیں مگر طلبہ کی زیادتی اور وقت کے تقاضوں کے پیش نظر یہ ذخیرہ اکیس ہزار سات سو چھیانوے (۲۱۷۹۶) کتب پر مشتمل ہے جو کہ نا کافی ہے ۔ اس وقت جامعہ کوتفسیر واصول تفسیر ، حدیث واصول حدیث ، اسماء الرجال ، فقہ وفتاوی ، تاریخ اورتوحید وعقائد وغیرہ مختلف علوم وفنون میں ہزاروں مزید کتابیں درکار ہیں اہل خیر حضرات اگر اس طرف توجہ فرمائیں تو یہ ان کے حق میں صدقہ جاریہ ہوگا اور یہ اہم دینی ضرورت پوری ہو جائے گی ۔
محکمہ شرعیہ :
۱۹۶۰ء سے یہ شعبہ قائم ہے جسے اپنی کارکردگی کی وجہ سے اتر پردیش میں اہم اور نمایاں مقام حاصل ہے منتخب علماء ومفتیان کرام پر مشتمل ایک کمیٹی مسلمانوں کے نکاح وطلاق وغیرہ کے مسائل کا متفقہ طور پر فیصلہ کرتی ہے ۔
دارالاقامہ :
جامعہ میں بیرونی طلبہ اوران کی تربیت و دیگر ضروریات کے لئے مطلوب عملہ کی رہائش گاہوں کا انتظام وانصرام ،موسم سرما میں طلبہ میں لحافوں کی تقسیم تکرار ومطالعہ کی نگرانی وغیرہ امور کی انجام دہی کے لئے حضرت مہتمم صاحب مدظلہ کی زیر سرپرستی نظماء دارالاقامہ مصروف کار رہتے ہیں ۔
دارالاقامہ کی مستقل کوئی عمارت نہیں ہے ۔ درسگاہوں میں ہی طلبہ کی اقامت رہتی ہے۔ جس کی وجہ سے طلبہ کے مہمانوں اور مریض طلبہ کے لئے وقتیں پیش آتی ہیں اس لئےاس سمت میں بھی قوم کی خصوصی توجہ درکار ہے ۔
مہمان خانہ :
جامعہ میں تشریف لانے والے وارد ین وصا در ین حضرات مفکرین دانشوران اور اصحاب فکر علماء کرام کے قیام و طعام اور تواضع کے لئے ایک مہمان خانہ ہے جو لازمی جدید سہولیات سے آراستہ ہے۔
شعبہ تعمیرات :
جامعہ کی تعمیرات جدید کا سلسلہ ۱۹۸۰ء سے برابر جاری ہے، پرانی عمارتوں کی دیکھ ریکھ اور مرمت کرنا نئی تعمیرات کرا نا وغیر داس شعبہ کی ذمہ داری ہے ۔جامعہ سے متصل دارالمدرسین کے نام سے پانچ سال قبل اسا تذہ وملازمین کے لئے 9 عدد رہایشی مکانات کی تعمیر کرائی ہے فی الوقت ان مکانات میں اساتذہ و ملازمین قیام پزیر ہیں۔
شعبہ امورِ خارجہ :
ٹیلی فون و بچلی، پانی کے بلوں کی ادائیگی طلبہ کیلئے ریلوے کنسیشن فارموں کی دستیابی اور فراہمی ،میونسپلٹی ، اوقاف اور مقدمات کی پیروی جیسےامور کی انجام دہی اس شعبہ سے وابستہ ہے۔
شعبہ برقیات اور پانی :
دو ماہر الیکٹرشن کی دیکھ بھال میں جامعہ کا جنریٹر، ٹیوب ویل چکی اور پورے جامعہ بجلی اور پانی کی سپلائی کا نظم قائم ہے ۔ تا کہ مہمانان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تکرار ومطالعہ، درس و تدریس نیز آرام میں سہولت ہو۔ یہ شعبہ ایک ناظم کی سربراہی میں اپنی مفوضہ خدمات انجام دے رہا ہے ۔
شعبہ محاسبی :
جامعہ کے جملہ شعبہ جات کے آمد و خرچ کا حساب کتاب، بلوں کی ادائیگی طلبہ کے وظائف ،اساتذہ کی تنخواہوں کی تقسیم ، سالانہ آمد وصرف کا گوشوارہ اور سالانہ بجٹ کی تیاری کر کے شوری میں پیش کرنا وغیرہ امور اس شعبہ سے وابستہ ہیں ۔
شعبہ تدريب معلمین :
اس شعبہ میں معلمین قرآن کو قاعدۂ نو رانی پڑھانے کے لئے تعلیم وتربیت کی مشق وتد ریب کرائی جاتی ہے۔